مونچھیں قینچی کے ساتھ کاٹیں یا استرے کے ساتھ ؟ فتاوی آن لائن

سوال:

میرا سوال ایک حدیث مبارکہ کے حوالے سے ہے کہ اس میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ''مونچھیں پست کرو اور داڑھی بڑھاؤ'' اس میں جو مونچھوں کا کہا گیا ہے یہ قینچی کے ساتھ کٹوانا ہے یا استرے کے ساتھ بالکل ہی صاف کردینا ہے۔

جواب:

 

شیخ الاسلام مولانا محمد اسحاق مدنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں 

''اس کے بارے میں بھی سلف صالحین کے اندر بہت سی رائے پائی جاتی ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ بالکل ہی صاف کر دیا جائے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے کہ مونچھیں کٹوادو ، جبکہ کچھ لوگ، جن کی رائے بہتر ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ جو ہونٹوں کا کنارہ ہے اس سے کٹوا دیں اور باقی  رکھ سکتے ہیں۔

اسی لئے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ یہی فرمایا کرتے تھے کیونکہ حدیث مبارکہ تھی کہ جس نے مونچھوں میں سے کچھ بھی نہیں کٹوایا وہ میری امت میں سے نہیں ہے۔

اور علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ''من'' کا لفظ ہے  جس سے مراد یہ ہے ''مونچھوں میں سے'' اسی لئے  کٹوانا لازمی نہیں  ، بس یہ ہونٹوں کے کنارے ننگے ہونے چاہییں یعنی کہ ہونٹوں کے کناروں سے بال کاٹ دینے چاہییں ، باقی رکھ سکتے ہیں۔

یہی وجہ تھی کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ  کے بارے میں روایات کے اندر آتا ہے کہ وہ مونچھوں پر استرا پھیرنے کے بہت مخالف تھے ، اگر وہ کسی کو دیکھتے تھے کہ اس نے مونچھوں پر استرا پھیرا  ہوا ہے تو وہ اسے کوڑے لگوایا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ  یہ تم کیا عورتوں اور خسروں والی حرکت کر رہے ہو ، مردوں کی طرح مونچھیں رکھو ، بس ہونٹوں کا کنارہ ننگا ہونا چاہیے۔

صحیح بات یہی ہے۔ (دوسرا عمل بھی کر سکتے ہیں)''


مونچھیں قینچی کے ساتھ کاٹیں یا استرے کے ساتھ ؟ فتاوی آن لائن




شیخ الاسلام مولانا محمد اسحاق مدنی رحمہ اللہ کی جس ویڈیو سے مندرجہ بالا مواد لیا گیا  ہے وہ ذیل میں دے دی گیٴ ہے ۔

آپ اس سے بھی استفادہ کر سکتے ہیں۔






الداعی الی الخیر: اسلام وتھ فیصل شکیل

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے