‏محمد بن ۤقاسم کی حقیقت ! فتاوی آن لائن

سوال:

کہا جاتا ہے کہ محمد بن قاسم سندھ میں راجہ داہر سے کسی عورت کو چھڑوانے کے لیے آیا تھا جبکہ کچھ لوگوں کا خیال یہ بھی ہے کہ کچھ سادات کو راجہ داہر نے پناہ دے رکھی تھی محمد بن قاسم ان کو واپس لینے آیا تھا۔ مزید آپ واقعہ کربلا میں دیکھتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کی عورتوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ حجاج بن یوسف جیسا ظالم آدمی برصغیر میں کسی عورت کی پکار پر ایک لشکر بھیج دے؟




جواب:

شیخ الاسلام مولانا محمد اسحاق مدنی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"میرے محترم بھائی! یہ جو تاریخی باتیں ہیں ، ان میں سے بہت سا مواد تو بلا سند ہی ہے۔ اگر سندیں ہیں بھی تو زیادہ تر کمزور اور ضعیف ہیں، جو امام طبری وغیرہ نے اکٹھی کر لیں۔اگر ہم اس کی بنیاد پر فیصلے کریں تو یہ کوئی مناسب بات نہیں۔ یہ باتیں اللہ تعالی پر چھوڑ دینی چاہئیں۔ جو کوئی مستند بات ہے وہ بیان کر سکتے ہیں اور وہ آپ بھی پوچھ سکتے ہیں۔ محمد بن قاسم اور حجاج بن یوسف کا کربلا سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بعد کی باتیں ہیں۔ اسی لئے جو کربلا کا آپ نے ذکر کیا اس میں ان کا کوئی دخل نہیں۔ اس کے بعد والی بات تو بالکل درست ہے اور پوری امت مانتی ہے کہ حجاج جیسا ظالم کوئی نہیں تھا۔اہل سنت یا اہل تشیع میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو اسے اچھا کہتا ہو۔
حدیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ارشاد ہے کہ بنو ثقیف میں ایک کذاب ہوگا اور ایک ظالم۔ ظالم اسی کو کہا گیا تھا۔ ترمذی میں اس کا ذکر ہے کہ اس نے ایک لاکھ بیس ہزار آدمیوں کو تو صرف فرش ہی پر لٹا کر ذبح کر وایا۔ لڑائیوں اور جنگوں میں جو مروائے وہ اس کے علاوہ ہیں۔ بہت بڑا ظالم ہے اسی لئے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر تمام امتوں کے فرعونوں کو جمع کیا جائے تو "حجاج" یعنی اس امت کا فرعون سب پر سبقت لے جائے گا۔ خلاصہ کلام ، اتنا بڑا ظالم کوئی نہیں تھا جتنا یہ۔
محمد بن قاسم حجاج بن یوسف کا بھتیجا اور داماد تھا، محمد بن قاسم کے بارے میں ان قصوں کے علاوہ جو ایک بات رجال کی کتاب تہذیب التہذیب جسے علامہ ابن حجر العسقلانی المتوفی 852 ھ نے لکھا ہے اس میں ہے: "حجاج ابن یوسف نے محمد بن قاسم کو لکھا کہ حضرت عطیہ بن عوف کو طلب کر کے ان سے حضرت علی پر سب و شتم کرنے کا مطالبہ کرے اور اگر وہ ایسا کرنے سے انکار کر دیں تو ان کو چار سو کوڑے لگا کر داڑھی مونڈ دے۔ محمد بن قاسم نے انکو بلایا اور مطالبہ کیا کہ حضرت علی پر سب و شتم کریں۔ انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تو محمد بن قاسم نے انکی داڑھی منڈوا کر چار سو کوڑے لگوائے۔ اس واقعے کے بعد وہ خراسان چلے گئے۔ وہ حدیث کے ثقہ راوی ہیں"
حالانکہ زنا کی سزا بھی صرف سو کوڑے ہے۔
یہ ایک کارنامہ اس کا ہے جسے حدیث کے ایک بہت بڑے عالم نے لکھا ، اسی لیے یہ کوئی اتنے اچھے لوگ نہیں ہوئے اور ان کا انجام بھی کوئی بخیر نہیں ہوا۔ کیونکہ ولید کے بعد جو خلیفہ آیا سلیمان , یہ اس کے مخالف تھے , یہ جتنے بھی جرنیل تھے یہ ولید کے بعد کسی دوسرے کو چاہتے تھے لیکن ان کی بدقسمتی کہ ولید کے بعد سلیمان تخت پر بیٹھ گیا۔
تو پھر سلیمان نے ان تمام جرنیلوں کو بہت بری موت مارا۔
اور محمد بن قاسم بھی انہیں کے ساتھ بہت بری موت مارا گیا۔"

فتاویٰ آن لائن 2012
مسئلہ نمبر: 001

مولانا محمد اسحاق مدنی رحمتہ اللہ علیہ کی جس ویڈیو سے مندرجہ بالا مواد لیا گیا ہے وہ ذیل میں دے دی گیٴ ہے آپ اس سے بھی استفادہ کر سکتے ہیں۔




ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے