اگر وضو ٹوٹنے کا شک ہو تو وضو دوبارہ کرنا چاہیے یا نہیں؟
سوال:
مولانا صاحب کہا جاتا ہے کہ دوران نماز اگر آپ کو شک ہو کہ وضو ٹوٹ گیا ہے تو اس سے آپ کا وضو نہیں ٹوٹتا جب تک کہ آپ کو یقین نہ ہوجائے۔ میرا سوال یہ ہے کہ اگر نماز کے علاوہ آدمی کو شک ہو جائے کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا ہے تو کیا اس کے لیے بھی وہی حکم ہوگا جو دوران نماز ہوتا ہے؟
جواب:
شیخ الاسلام مولانا محمد اسحاق مدنی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ایک بیماری ہے جسے وسوسہ کہتے ہیں کہ آدمی ہر وقت وہم میں رہتا ہے کہ میرا وضو ہے یا نہیں؟ یہ بہت بڑا روگ ہے اس سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔اسی لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تک بو نہ آئے یا پھر آواز نہ سنو اس وقت تک وضو نہیں ٹوٹتا۔
اگر وہم میں پڑے رہو گے کہ وضو ٹوٹا ہے کہ نہیں؟ تو پھر شیطان آپ کو اس طرح سے پاگل بنائے گا کہ آپ کو کبھی بھی تسلی نہیں ہوگی۔ اس کے لیے ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب لکھی "اغاثۃ اللھفان"جس میں فرمایا کہ عبادت گزار لوگوں کو شیطان نے اس طرح پاگل بنا دیا کہ وضو کرنے بیٹھیں گے تو لوٹوں پر لوٹے بہاتے جائیں گے لیکن ان کو تسلی ہی نہیں ہوگی۔ اسی لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلم کا فرمان ہی سب کچھ ہے کہ جب تک آواز نہ آئے یا پھر یقین نہ ہو تب تک سمجھو کہ آپ کا وضو ٹھیک ہے۔
یہ بات نماز کے اندر بھی اور باہر دونوں کیلئے ہے۔ کہ کبھی بھی شک میں نہ پڑا جائے ہمیشہ یقین پر بنیاد رکھی جائے۔ شک کوئی چیز نہیں۔"
اگر وہم میں پڑے رہو گے کہ وضو ٹوٹا ہے کہ نہیں؟ تو پھر شیطان آپ کو اس طرح سے پاگل بنائے گا کہ آپ کو کبھی بھی تسلی نہیں ہوگی۔ اس کے لیے ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب لکھی "اغاثۃ اللھفان"جس میں فرمایا کہ عبادت گزار لوگوں کو شیطان نے اس طرح پاگل بنا دیا کہ وضو کرنے بیٹھیں گے تو لوٹوں پر لوٹے بہاتے جائیں گے لیکن ان کو تسلی ہی نہیں ہوگی۔ اسی لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلم کا فرمان ہی سب کچھ ہے کہ جب تک آواز نہ آئے یا پھر یقین نہ ہو تب تک سمجھو کہ آپ کا وضو ٹھیک ہے۔
یہ بات نماز کے اندر بھی اور باہر دونوں کیلئے ہے۔ کہ کبھی بھی شک میں نہ پڑا جائے ہمیشہ یقین پر بنیاد رکھی جائے۔ شک کوئی چیز نہیں۔"
فتاویٰ آن لائن 2012
مسئلہ نمبر: 003
مولانا محمد اسحاق مدنی رحمتہ اللہ علیہ کی جس ویڈیو سے مندرجہ بالا مواد لیا گیا ہے وہ ذیل میں دے دی گیٴ ہے آپ اس سے بھی استفادہ کر سکتے ہیں۔
0 تبصرے